🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

141. باب الجمع بين الصلاتين - ذكر الخبر الدال على أن المصطفى صلى الله عليه وسلم قد كان يجمع بين الصلاتين في السفر وهو نازل غير سائر ولا راجل
نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو نمازیں جمع کرتے تھے جب وہ مقیم ہوتے، نہ کہ چلتے یا پیدل ہوتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1595
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفِيلِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا فَلا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ"، قَالَ: فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَ إِلَيْهَا رَجُلانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا؟" قَالا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ قَلِيلا قَلِيلا، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ، فَاسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ بِكَ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازیں جب کہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مؤخر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کل تم تبوک کے چشمے کے پاس پہنچ جاؤ گے اگر اللہ نے چاہا، تم اس کے پاس اس وقت پہنچو گے جب دن چڑھ چکا ہو گا، جو شخص وہاں پہنچے وہ میرے آنے سے پہلے اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہم وہاں پہنچ گئے، دو لوگ پہلے ہی وہاں تک پہنچ چکے تھے۔ وہ چشمہ تسمے کی مانند تھا، جس میں سے پانی کے قطرے پھوٹتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایا ہے؟“ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ ان دونوں کو کہا، پھر لوگوں نے اس چشمے میں سے اپنے ہاتھوں میں تھوڑا تھوڑا پانی لیا، یہاں تک کہ اسے کسی چیز میں جمع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی سے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر وہ پانی دوبارہ اس چشمے میں ڈال دیا تو اس چشمے سے بہت زیادہ پانی پھوٹ پڑا، لوگوں نے اس سے پانی حاصل کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! اگر تمہاری زندگی رہی تو عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم دیکھو گے کہ یہاں ہر طرف باغات ہوں گے (جو اس چشمے سے سیراب ہوتے ہوں گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1595]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 706، ومالك فى (الموطأ) برقم: 478، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 966، 968، 1704، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1458، 1591، 1593، 1595، 6537، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 586، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1576، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1206، 1208، 1220، والترمذي فى (جامعه) برقم: 553، 554، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1070، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1462، 1463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22419» «رقم طبعة با وزير 1593»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1089)، «الصحيحة» (1210): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير أبي الزبير، فمن رجال مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں