صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
211. باب الأذان - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به معاوية بن أبي سفيان
اذان کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف معاویہ بن ابی سفیان نے بیان کی
حدیث نمبر: 1670
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْعَرَبُ تَصِفُ بَاذِلَ الشَّيْءِ الْكَثِيرِ بِطُولِ الْيَدِ، وَمُتَأَمِّلَ الشَّيْءَ الْكَثِيرَ بِطُولِ الْعُنُقِ، فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرِيدُ أَطْوَلُهُمْ أَعْنَاقًا لِتَأَمُّلِ الثَّوَابِ" كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنِسَائِهِ:" أَسْرَعُكُنَّ بِي لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا"، فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَوَّلُ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحِقَتْ بِهِ، وَكَانَتْ أَكْثَرُهُنَّ صَدَقَةً، وَلَيْسَ يُرِيدُ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، أَنَّ الْمْؤَذِّنِينَ هُمْ أَكْثَرُ النَّاسِ تَأَمُّلا لِلثَّوَابِ فِي الْقِيَامَةِ، وَهَذَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ الْعَرَبَ تَذْكُرُ الشَّيْءَ فِي لُغَتِهَا بِذِكْرِ الْحَذْفِ عَنْهُ مَا عَلَيْهِ مُعَوِّلُهُ، فَأَرَادَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ: أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا، أَيْ: مِنْ أَطْوَلِ النَّاسِ أَعْنَاقًا، فَحَذَفَ مِنْ مِنَ الْخَبَرِ كَمَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا:" أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا"، أَيْ: مِنْ أَقْوَامٍ أُحِبُّهُمْ وَهَؤُلاءِ مِنْهُمْ، وَهَذَا بَابٌ طَوِيلٌ سَنَذْكُرُهُ فِي مَوْضِعِهِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ فِي الْقِسْمِ الثَّالِثِ مِنْ أَقْسَامِ السُّنَنِ إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب سے زیادہ لمبی ہوں گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (عرب زیادہ چیز خرچ کرنے والے کو ہاتھ لمبا ہونے اور زیادہ چیز کی امید رکھنے والے کو گردن لمبی ہونے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ قیامت کے دن اذان دینے والے لوگ لمبی گردنوں والے ہوں گے اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں زیادہ ثواب کی امید ہو گی۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج سے یہ فرمان ”تم میں مجھ سے سب سے جلدی وہ ملے گی، جس کے ہاتھ تم میں سے، سب سے زیادہ لمبے ہیں، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ان سے مل گئی تھیں کیونکہ وہ زیادہ صدقہ کیا کرتی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ قیامت کے دن ثواب کی زیادہ امید صرف اذان دینے والوں کو ہو گی یہ ان کلمات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب اپنے محاور ے میں کسی چیز کا تذکرہ کرتے ہیں اور اس کے ہمراہ اس لفظ کو حذف کر دیتے ہیں جس پر اس کی بنیاد ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے اس سے مراد یہ ہے کہ لمبی گردن والے لوگوں میں سے ہوں گے۔ یہاں پر لفظ ”من“ محذوف ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ ”میرے بندوں میں سے میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ وہ ہیں جو جلدی افطار کرتے ہیں۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جن سے میں محبت رکھتا ہو۔ یہ ان میں سے ہیں، یہ ایک طویل باب ہے جسے ہم اس کتاب میں اس کے مخصوص مقام پر ذکر کریں گے جو سنت کی اقسام میں سے تیسری قسم میں ہو گا۔ اگراللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور یہ چاہا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1668»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
عباد بن أنيس، ذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 141، وباقي رجال السند على شرطهما، وقد تقدم في التعليق على الحديث (1667) قول أبي داود: منصور لا يروي إلا عن ثقة، ويشهد له حديث معاوية السابق.