صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب إِكْثَارِ الأَعْمَالِ وَالاِجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ:
باب: عمل بہت کرنا اور عبادت میں کوشش کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 2819 ترقیم شاملہ: -- 7124
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: " أَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، فَقَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
ابوعوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی (اتنی لمبی) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ آپ سے کہا گیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت فرما دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7124]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اتنی دیر تک) نماز پڑھی کہ آپ کے قدم سوج گئے۔ چنانچہ آپ سے پوچھا گیا: کیا آپ اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے اور پچھلے «ذَنْب» معاف کر دیے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2819
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2819 ترقیم شاملہ: -- 7125
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَتَّى وَرِمَتْ قَدَمَاهُ، قَالُوا: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
سفیان نے ہمیں زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا (اتنا لمبا) قیام کیا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں (پھر اس قدر مشقت کیوں؟) تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7125]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر قیام کیا، حتیٰ کہ آپ کے قدم سوج گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ (آپ کے) اگلے اور پچھلے ذنب معاف کر چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2819
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2820 ترقیم شاملہ: -- 7126
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ".
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو (بہت لمبا) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسا کرتے ہیں، حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی (یقین دہانی کرائی) جا چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! کیا میں (اللہ تعالیٰ کا) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7126]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اس قدر قیام کرتے حتی کہ آپ کے پاؤں پھٹ جاتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے اور پچھلے «ذَنْب» معاف کیے جا چکے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو کیا میں ایک شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2820
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة