صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
248. باب شروط الصلاة - ذكر الإباحة للمعدم الماء والصعيد معا أن يصلي من غير وضوء ولا تيمم
نماز کی شرائط کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ جو شخص پانی اور مٹی دونوں سے محروم ہو، وہ بغیر وضو اور تیمم کے نماز پڑھ سکتا ہے
حدیث نمبر: 1709
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلادَةً مِنْ أَسْمَاءَ فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، وَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاةُ، فَصَلُّوا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ" ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ:" جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكَ أَمْرٌ قَطُّ إِلا جَعَلَ اللَّهُ لَكَ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ فِيهِ لِلْمُسْلِمِينَ بَرَكَةً".
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے عارضی استعمال کے لیے ایک ہار لیا، وہ گم ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو اس کی تلاش میں بھیجا، ان لوگوں کو نماز کا وقت ہو گیا، انہوں نے وضو کے بغیر ہی نماز ادا کر لی، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اس بات کی شکایت آپ کے سامنے کی، تو تیمم کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گئی، اس پر سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا): اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے نکلنے کا راستہ بنا دیا اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت رکھ دی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 334، 336، 3672، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 367، ومالك فى (الموطأ) برقم: 169، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 261، 262، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1300، 1317، 1709، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 309، وأبو داود فى (سننه) برقم: 317، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 568، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24937» «رقم طبعة با وزير 1706»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (334).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو كريب: هو محمد بن العلاء، وأبو أسامة: هو حماد بن أسامة.