Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

329. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1796
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ:" نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفِي بِمَكَّةَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا، سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110، أَيْ: بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ، وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ فَلا تُسْمِعُهُمْ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے بیان کرتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے) تم اپنی نماز کو بلند آواز میں بھی نہ کرو اور پست آواز میں بھی نہ رکھو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پوشیدہ طور پر وقت گزار رہے تھے۔ جب آپ اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تھے، تو بلند آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ مشرکین جب سنتے تھے، تو وہ قرآن کو، اس کو نازل کرنے والے کو اور جو اس کو لے کر آیا اسے برا کہتے تھے۔ تو اللہ نے اپنے نبی کو یہ حکم دیا تم اپنی نماز کو بلند آواز میں نہ کرو یعنی قرأت کو بلند نہ کرو کہ مشرکین اس کو سن لیں اور قرآن کو برا کہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور تم اسے پست بھی نہ رکھو اس سے مراد تم اپنے ساتھیوں سے اسے پست بھی نہ رکھو۔ کہ انہیں سنا بھی نہ سکو (ارشاد باری تعالیٰ ہے) اور تم اس کے درمیان کا راستہ تلاش کرو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1796]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1793»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، وقد صرح ابن هشيم بالتحديث، يعقوب الدورقي: هو يعقوب بن إبراهيم بن كثير، وأبو بشر: هو جعفر بن إياس.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں