صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
522. فصل في القنوت - ذكر الإباحة للمرء أن يكون انصرافه من صلاته عن يساره
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز سے بائیں جانب انصراف کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 1997
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ جُزْءًا مِنْ نَفْسِهِ، يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَنْصَرِفَ إِلا عَنْ يَمِينِهِ،" فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کوئی بھی شخص اپنی ذات کے حوالے سے شیطان کا حصہ نہ رکھے وہ یہ نہ سمجھے، اس پر یہ بات لازم ہے، (وہ نماز پڑھنے کے بعد) صرف دائیں طرف سے ہی اٹھ سکتا ہے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر اوقات بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1997]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1994»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (957): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.