صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
548. فصل في القنوت - ذكر الشيء الذي يعدل لمن قاله بعد صلاة الغداة والمغرب عتاقة أربع رقاب مع احتراسه من الشيطان به
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس چیز کا ذکر جو صبح اور مغرب کی نماز کے بعد کہنے سے چار غلاموں کی آزادی کے برابر ہے اور اس سے شیطان سے حفاظت ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2023
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعِيشَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، كُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ بِهِنَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ عَدْلَ عَتَاقَةِ أَرْبَعِ رِقَابٍ، وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ إِذَا صَلَّى الْمَغْرِبَ دُبُرَ صَلاتِهِ فَمِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ" . أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعِيشَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ دُبُرَ صَلاتِهِ إِذَا صَلَّى: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ عِتْقَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، جَمِيعًا وَهُمَا طَرِيقَانِ مَحْفُوظَانِ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھ لے: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ آدمی دس مرتبہ یہ کلمہ پڑھے تو ان کلمات کے عوض میں اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی۔ اس کے دس گناہ ختم کیے جائیں گے۔ ان کلمات کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند کیے جائیں گے اور یہ کلمات اس شخص کے لئے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لئے شام تک شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ان کلمات کو پڑھ لے، تو اسے صبح تک یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔ ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت منقول ہے۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز پڑھ لینے کے بعد یہ کلمہ پڑھ لے۔“ ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ تو ان کلمات کی وجہ سے اس شخص کے لیئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی ان کی وجہ سے اس کے دس گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ ان کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لئے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لیئے شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لے گا، تو صبح تک اسے یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یزید بن یزید نے یہ روایت مکحول اور قاسم بن مخیمرہ دونوں سے سنی ہے اور دونوں طریقے محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2023]
تخریج الحدیث: «0»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
(1) صحيح - «الصحيحة» (113 و 2563). <br> (2) صحيح - «الصحيحة» -أيضاً-. * [ابْنِ] قال الشيخ: في الأصل: «أبي». قال الناشر: وقع في «طبعة المؤسسة» بدون ترقيم! وكأنَّ القائمين عليه توهموا أنَّه مكرَّر!! مع أنَّه حديث آخر - كما قال أبو حاتم -. استدراك على «طبعة المؤسسة»!! وقع هذا الحديث بدون ترقم في «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
(1) عبد الله بن يعيش: روى عنه اثنان، وذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 62، وقال الحسيني في «الإكمال» فيما نقله عنه الحافظ في «تعجيل المنفعة» ص 243: مجهول، وباقي رجاله ثقات، وقال الحافظ في «الفتح» 11/ 205 بعد أن ذكره من رواية أحمد: وسنده حسن. <br> (2) هو مكرر ما قبله.