🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

564. باب الإمامة والجماعة - فصل في فضل الجماعة - ذكر إعطاء الله جل وعلا من بعد داره عن المسجد من الفضل ما لا يعطي من قرب داره منه
امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کو جو اپنے گھر سے مسجد دور ہونے کی وجہ سے زیادہ فضیلت دیتا ہے بنسبت اس کے جس کا گھر قریب ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2040
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ لا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ يَشْهَدُ الصَّلاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْعَدَ جِوَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ، فَقِيلَ: لَوِ ابْتَعْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ، أَوِ الظَّلْمَاءِ، فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي بِلِزْقِ الْمَسْجِدِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، أَوْ أَعْطَاكَ اللَّهُ مَا احْتَسَبْتَ" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق اہل مدینہ میں سے قبلہ رخ نماز ادا کرنے والوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرنے والوں میں سے ایک شخص ایسا تھا کہ اس سے زیادہ دور کسی اور کا گھر مسجد سے نہ تھا، اسے کہا گیا: اگر تم ایک گدھا خرید لو جس پر تم سوار ہو کر سردی اور گرمی کے موسم میں (مسجد) آیا کرو (تو یہ مناسب ہوگا)، اس نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر مسجد کے بالکل ساتھ ہو، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہ سب تمہیں عطا کرے گا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ”جس ثواب کی تم نے امید رکھی ہے، اللہ تعالیٰ وہ تمہیں عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2040]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 663، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 450، 1500، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2040، 2041، وأبو داود فى (سننه) برقم: 557، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21605» «رقم طبعة با وزير 2038»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (566). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، التميمي: هو سليمان بن طرخان، وأبو عثمان: هو عبد الرحمن بن مل النهدي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں