صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
607. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر البيان بأن حكم أكل الكراث حكم أكل الثوم والبصل فيما وصفنا
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا بیان کہ گندنا کھانے کا حکم وہی ہے جو لہسن اور پیاز کھانے کا ہمارے بیان کردہ معاملے میں ہے
حدیث نمبر: 2086
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا لا نَأْكُلُ الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ، فَلا يَقْرَبْ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى بِهِ النَّاسُ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم پیاز اور گندنا نہیں کھایا کرتے تھے، پھر ہمیں اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم نے اسے کھا لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس بودار درخت (کا پھل) کھاتا ہے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے اذیت محسوس ہوتی ہے، جس سے انسانوں کو اذیت محسوس ہوتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2083»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 334): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير أبي الزبير، فمن رجال مسلم، وقد صرح بالتحديث عند الحميدي (1278).