صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
633. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر تأوله بعض الناس بما ينطق عموم الخبر بضده
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جسے بعض لوگوں نے اس کے عمومی معنی کے برخلاف تأویل کیا
حدیث نمبر: 2113
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ، فَصَلَّى لَنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: زَعَمَ بَعْضُ الْعِرَاقِيِّينَ مِمَّنْ كَانَ يَنْتَحِلُ مَذْهَبَ الْكُوفِيِّينَ أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا، أَرَادَ بِهِ وَإِذَا تَشَهَّدَ قَاعِدًا فَتَشَهَّدُوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ، فَحَرَّفَ الْخَبَرَ عَنْ عُمُومِ مَا وَرَدَ الْخَبَرُ فِيهِ بِغَيْرِ دَلِيلٍ يَثْبُتُ لَهُ عَلَى تَأْوِيلِهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے۔ آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ ہم نے آپ کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز ادا کی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ (رکوع سے سر) اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ جب وہ «سمع اللہ لمن حمدہ» پڑھے تم لوگ «ربنا ولك الحمد» پڑھو جب وہ سجدے میں جائے، تو تم بھی سجدے میں جاؤ جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) بعض اہل عراق جو اہل کوفہ کے مسلک کے قائل ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو“ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ جب وہ بیٹھ کر تشہد پڑھے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر تشہد پڑھو۔ تو اس شخص نے اس روایت کو اس کے اس عمومی مفہوم سے پھیر دیا ہے۔ جس کے بارے میں وہ روایت منقول ہوئی تھی۔ اور اس نے کسی دلیل کے بغیر ایسا کیا ہے جس دلیل سے اس کی بیان کردہ تاویل ثابت ہوتی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2110»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (2099). تنبيه!! رقم (2099) = (2102) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين غير يزيد بن موهب، وهو يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب، فإنه لم يخرجا له ولا أحدهما، وهو ثقة.