صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب ذِكْرِ الدَّجَّالِ:
باب: دجال کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 169 ترقیم شاملہ: -- 7361
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِئَةٌ "،
عبید اللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے، سن رکھو! بلاشبہ مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہے۔ اس کی آنکھ اس طرح ہے جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7361]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے، خبردار! مسیح دجال کی دائیں آنکھ کانی ہے، گویا آنکھ پھولا ہوا انگور ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7361]
ترقیم فوادعبدالباقی: 169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 169 ترقیم شاملہ: -- 7362
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ایوب اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7362]
امام تین اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7362]
ترقیم فوادعبدالباقی: 169
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2933 ترقیم شاملہ: -- 7363
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَمَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر ".
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نبی نہیں (گزرا مگر اس نے اپنی امت کو کانے کذاب سے ڈرایا ہے۔ یاد رکھو، وہ کانا ہے جبکہ تمھارا عزت اور جلال والا رب کانا نہیں، اس (دجال) کی دونوں آنکھوں کے درمیان ’ك ف ر‘ لکھا ہوا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7363]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی اپنی امت کو کانے دجال سے ڈرا چکا ہے، خبردار! وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور دجال کی آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر لکھا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7363]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2933
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2933 ترقیم شاملہ: -- 7364
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الدَّجَّالُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر أَيْ كَافِرٌ ".
ہشام نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ك ف ر یعنی كافر لکھا ہوا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7364]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی آنکھوں کے درمیان «ك ف ر» یعنی کافر لکھا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7364]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2933
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2933 ترقیم شاملہ: -- 7365
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، ثُمَّ تَهَجَّاهَا ك ف ر يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ ".
شعیب بن جنحاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال بے نور آنکھ والا ہے اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہے كافر۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہجے کیے: ك ف ر۔ ”اس کو ہر مسلمان پڑھ لے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7365]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی آنکھ مٹی ہوئی ہو گی (اس لیے اس کو مسیح کہتے ہیں)، دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حروفِ تہجی کو الگ الگ پڑھا: ”ک، ف، ر“ (اسے ہر مسلمان پڑھے گا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7365]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2933
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2934 ترقیم شاملہ: -- 7366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، جُفَالُ الشَّعَرِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ ".
شقیق نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی بائیں آنکھ (بھی) عیب دار ہو گی اور بال گھنے گچھے دار ہوں گے، اس کے ہمراہ ایک جنت ہو گی اور ایک دوزخ ہو گی۔ اس کی دوزخ (حقیقت میں) جنت ہو گی اور اس کی جنت اصل میں دوزخ ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7366]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی، بال گھنے ہوں گے، اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی، اس کی آگ جنت ہوگی اور اس کی جنت آگ ہوگی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7366]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2934
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2934 ترقیم شاملہ: -- 7367
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ، أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبْيَضُ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ، فَإِمَّا أَدْرَكَنَّ أَحَدٌ فَلْيَأْتِ النَّهْرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا وَلْيُغَمِّضْ، ثُمَّ لَيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ، فَيَشْرَبَ مِنْهُ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ ".
ابومالک اشجعی نے ربعی بن حراش سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ دجال کے ساتھ ہو گا اسے میں خود اس کی نسبت بھی زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں۔ اس کے ساتھ دو چلتے ہوئے دریا ہوں گے۔ دونوں میں سے ایک بظاہر سفید رنگ کا پانی ہو گا اور دوسرا بظاہر بھڑکتی ہوئی آگ ہو گی۔ اگر کوئی شخص اس کو پالے تو اس دریا کی طرف آئے جسے وہ آگ (کی طرح) دیکھ رہا ہے اور اپنی آنکھ بند کرے۔ پھر اپنا سر جھکائے اور اس میں سے پیے تو وہ ٹھنڈا پانی ہو گا۔ اور دجال بے نور آنکھ والا ہے، اس کے اوپر موٹا ناخونہ (گوشت کا ٹکڑا جو آنکھ میں پیدا ہو جاتا ہے) ہو گا۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا: كافر۔ اسے ہر مومن لکھنے (پڑھنے) والا ہو یا نہ لکھنے (پڑھنے) والا پڑھ لے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7367]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہو گا (میں اس کی حقیقت اس سے بھی زیادہ جانتا ہوں)، اس کے ساتھ دو بہتی ہوئی نہریں ہوں گی، ان میں سے ایک بظاہر آنکھوں کے دیکھنے میں (بصیرت کی نظر سے نہیں) سفید پانی ہو گا اور دوسری آنکھ کے دیکھنے میں (حقیقت کی نظر سے نہیں) بھڑکتی ہوئی آگ ہو گی، اگر کوئی شخص یہ نظارہ دیکھے تو وہ اس نہر (دریا) میں چھلانگ لگائے جسے وہ آگ دیکھے اور اپنی آنکھیں بند کر لے، پھر اپنا سر جھکا کر اس سے پانی پی لے، کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہو گا، اور دجال «مَمْسُوحُ الْعَيْنِ» (مٹی ہوئی آنکھ والا) ہو گا، اس کی آنکھ پر گوشت کی گلٹی ہو گی، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان «كَافِرٌ» (کافر) لکھا ہو گا جسے ہر مومن، پڑھا ہوا اور ان پڑھ، پڑھ لے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7367]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2934
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2934 ترقیم شاملہ: -- 7368
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ: " إِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا، فَنَارُهُ مَاءٌ بَارِدٌ، وَمَاؤُهُ نَارٌ فَلَا تَهْلِكُوا "،
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں، (فرمایا) ”بے شک اس کے ہمراہ پانی ہو گا اور آگ ہو گی، اس کی آگ (اصل میں) ٹھنڈا پانی ہو گا اور اس کا پانی آگ ہو گی، تو تم لوگ (دھوکے میں) ہلاک نہ ہو جانا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7368]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے دجال کے بارے میں فرمایا: ”اس کے ساتھ آگ اور پانی ہو گا، چنانچہ اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہو گی، اور اس کا پانی آگ ہو گا، لہٰذا تم ہلاک نہ ہو جانا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7368]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2934
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2935 ترقیم شاملہ: -- 7369
قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7369]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا: ”حقیقت یہ ہے کہ اس کے ساتھ آگ اور پانی ہو گا، چنانچہ اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہو گی، اور اس کے ساتھ پانی اور آگ ہے، تو اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہے اور اس کا پانی آگ ہے، تو تم ہلاک نہ ہو جانا۔“ تو حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7369]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2935 ترقیم شاملہ: -- 7370
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ، قَالَ: " إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ وَإِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَارًا، فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَاءً، فَنَارٌ تُحْرِقُ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَارًا، فَمَاءٌ بَارِدٌ عَذْبٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَارًا، فَإِنَّهُ مَاءٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ "، فَقَالَ عُقْبَةُ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ تَصْدِيقًا لِحُذَيْفَةَ.
شعیب بن صفوان نے ہمیں عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے ربعی بن حراش سے، انہوں نے عقبہ بن عمرو ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (ربعی نے) کہا: میں ان (عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) کے ہمراہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، عقبہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے دجال کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث سنی ہے وہ مجھے بیان کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال نکلے گا، اس کے ساتھ پانی ہو گا اور آگ ہو گی۔ جو لوگوں کو پانی نظر آ رہا ہو گا (وہ) آگ ہو گی۔ اور جو لوگوں کو نظر آ رہی ہو گی، وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہو گا، تم میں سے جو شخص اس کو پائے وہ اس میں کود جائے جو اسے آگ نظر آ رہی ہو۔ بلاشبہ وہ میٹھا پاکیزہ پانی ہو گا۔“ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: اور میں نے (بھی) یہ حدیث سنی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7370]
حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اور ربعی بن حراش رحمہ اللہ، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی طرف چلے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: دجال کے بارے میں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے مجھے سنائیے، انہوں نے ان سے بیان کیا: ”دجال نکلے گا اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی، چنانچہ جس کو لوگ پانی دیکھیں گے، وہ جلا دینے والی آگ ہوگی اور جس کو لوگ آگ دیکھیں گے وہ شیریں ٹھنڈا پانی ہوگا، لہٰذا تم میں سے جو اس واقعے کو دیکھے تو وہ اس میں گرے جس کو وہ آگ دیکھے کیونکہ وہ خوش گوار میٹھا پانی ہوگا۔“ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت سن چکا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7370]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2935
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة