صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
640. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الصلاة التي رويت فيها الأخبار المختصرة المجملة الذي تقدم ذكرنا لها
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس نماز کا ذکر جس میں ہمارے پہلے بیان کردہ مختصر اور مجمل خبریں روایت ہوئی ہیں
حدیث نمبر: 2120
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، جَاءَهُ بِلالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَمَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ يَبْكِ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. قَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ لِيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ - ثَلاثَ مَرَّاتٍ - فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ". قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ، فَلَمَّا حَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، قَالَ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ مُخْتَصَرٌ مُجْمِلٌ، فَأَمَّا اخْتِصَارُهُ، فَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْمَوْضِعِ الَّذِي جَلَسَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعَلَى يَمِينِ أَبِي بَكْرٍ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ؟.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا وصال ہوا تھا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل آدمی ہیں، وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوئے تو رونے لگ جائیں گے، اگر آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کریں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں (تو یہ مناسب ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا: ”تم یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان ٹیک لگا کر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر لکیر بنا رہے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ کی آہٹ محسوس ہوئی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ”اپنی جگہ پر رہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے رہے اور لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کرتے رہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت مختصر اور مجمل ہے، جہاں تک اس کے مختصر ہونے کا تعلق ہے تو اس میں اس مقام کا ذکر نہیں ہے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں طرف بیٹھے تھے یا بائیں طرف بیٹھے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 2117»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2115). * [حَسَّ]: قال الشيخ: في الأصل: «أحس». تنبيه!! رقم (2115) = (2118) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين غير سلم بن جنادة، وهو ثقة.