صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
639. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر يعارض في الظاهر خبر أبي وائل الذي ذكرناه
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ ابو وائل کی خبر سے ظاہری طور پر متعارض ہے
حدیث نمبر: 2119
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَالَفَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَاصِمَ بْنَ أَبِي النَّجُودِ فِي مَتْنِ هَذَا الْخَبَرِ، فَجَعَلَ عَاصِمٌ أَبَا بَكْرٍ مَأْمُومًا، وَجَعَلَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدَ أَبَا بَكْرٍ إِمَامًا، وَهُمَا ثِقَتَانِ حَافِظَانِ مُتْقِنَانِ، فَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ يُجْعَلَ خَبَرُ أَحَدِهِمَا نَاسِخًا لأَمْرٍ مُتَقَدِّمٍ، وَقَدْ عَارَضَهُ فِي الظَّاهِرِ مِثْلُهُ؟ وَنَحْنُ نَقُولُ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ وَتَوْفِيقِهِ: إِنَّ هَذِهِ الأَخْبَارَ كُلَّهَا صِحَاحٌ، وَلَيْسَ شَيْءٌ مِنْهَا يُعَارِضُ الآخَرَ، وَلَكِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى فِي عِلَّتِهِ صَلاتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَةً، لا صَلاةً وَاحِدَةً، فِي إِحْدَاهُمَا كَانَ مَأْمُومًا، وَفِي الأُخْرَى كَانَ إِمَامًا. وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُمَا كَانَا صَلاتَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً أَنَّ فِي خَبَرِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يُرِيدُ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسَ وَالآخَرَ عَلِيًّا، وَفِي خَبَرِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ بَيْنَ بَرِيرَةَ وَنُوبَةَ"، فَهَذَا يَدُلَّكُ عَلَى أَنَّهَا كَانَتْ صَلاتَيْنِ لا صَلاةً وَاحِدَةً.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری کے دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جس بیماری کے دوران آپ کا وصال ہوا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نعیم بن ابوہند نامی راوی نے اس روایت کے متن میں عاصم بن ابونجود سے مختلف رائے نقل کی ہے۔ عاصم نے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مقتدی تھے جبکہ نعیم نے یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ امام تھے۔ یہ دونوں راوی ثقہ ہیں حافظ ہیں اور ”متفق“ ہیں۔ تو یہ بات کیسے جائز ہو سکتی ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک خبر کو پہلے سے موجود حکم کی ناسخ بنا دیا جائے۔ جبکہ اسی کی مانند ایک روایت بظاہر اس کے مقابلے میں موجود ہے۔ تواللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی توفیق کے ہمراہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام روایات مستند ہیں اور ان میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو دوسری کے مدمقابل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران مسجد میں جماعت کے ساتھ دو مرتبہ نماز ادا کی۔ ایک نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دو میں سے ایک مرتبہ آپ مقتدی کے طور پر شریک ہوئے تھے اور دوسری مرتبہ میں آپ امام کے طور پر شریک ہوئے تھے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے دو نمازوں میں شرکت کی تھی۔ ایک نماز میں نہیں کی تھی۔ ایک یہ روایت ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے۔ جن میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ جبکہ مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بریرہ اور نوبہ (نامی کنیزوں) کے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے تھے۔ تو یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازیں ادا کی تھیں ایک نماز ادا نہیں کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2116»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غيرنعيم بن أبي هند، فإنه من رجال مسلم وحده.