Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

642. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر المفسر للألفاظ المجملة التي تقدم ذكرنا لها في خبر عائشة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی خبر میں ہمارے بیان کردہ مجمل الفاظ کی تفسیر کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2122
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، قَالَ: فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَصَلَّيْنَا بِصَلاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ:" كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومَ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ، فَلا تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِإِمَامِكُمْ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَعَدَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، وَتَحَوَّلَ أَبُو بَكْرٍ مَأْمُومًا يَقْتَدِي بِصَلاتِهِ، وَيُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ التَّكْبِيرَ لِيَقْتَدُوا بِصَلاتِهِ، أَمَرَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ بِالْقُعُودِ حِينَ رَآهُمْ قِيَامًا، وَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاتِهِ أَمَرَهُمْ أَيْضًا بِالْقُعُودِ، إِذَا صَلَّى إِمَامُهُمْ قَاعِدًا، وَقَدْ شَهِدَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ صَلاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَيْثُ سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، وَكَانَ سُقُوطُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَسِ فِي شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ آخِرَ سَنَةِ خَمْسٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَشَهِدَ هَذِهِ الصَّلاةَ فِي عِلَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدَّى كُلَّ خَبَرٍ بِلَفْظِهِ، أَلا تَرَاهُ يَذْكُرُ فِي هَذِهِ الصَّلاةِ رَفْعَ أَبِي بَكْرٍ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ لِيَقْتَدِيَ النَّاسُ بِهِ، وَتِلْكَ الصَّلاةُ الَّتِي صَلاهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ عِنْدَ سُقُوطِهِ عَنْ فَرَسِهِ، لَمْ يَحْتَجْ أَبُو بَكْرٍ إِلَى أَنْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ لَيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ عَلَى صِغَرُ حُجْرَةُ عَائِشَةَ، وَإِنَّمَا رَفْعُهُ بِالصَّوْتِ بِالتَّكْبِيرِ فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِلَّتِهِ، فَلَمَّا صَحَّ مَا وَصَفْنَا لَمْ يَجُزْ أَنْ يُجْعَلَ بَعْضُ هَذِهِ الأَخْبَارِ نَاسِخًا لِمَا تَقَدَّمَ عَلَى حَسْبِ مَا وَصَفْنَاهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے۔ ہم نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی آپ بیٹھ کر نماز ادا کر رہے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف توجہ کی تو آپ نے ہمیں کھڑے ہوئے ملاحظہ کیا آپ نے اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے اور ہم نے بیٹھ کر وہ نماز ادا کی آپ نے سلام پھیرا اور ارشاد فرمایا: قریب تھا کہ تم وہ عمل کرتے جو اہل فارس اور اہل روم کرتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں تم ایسا نہ کرو تم اپنے امام کی پیروی کرو اگر وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وضاحتی روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھے تھے۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مقتدی بن گئے تھے۔ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔ وہ تکبیر کہتے ہوئے تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔ تاکہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قیام کی حالت میں دیکھا تو آپ نے ان کو بیٹھنے کا حکم دیا تھا۔ جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو پھر آپ نے ان کو یہی حکم دیا کہ جب ان کا امام بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ بھی بیٹھ کر نماز ادا کریں۔ سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز میں شریک ہوئے تھے۔ جب آپ اپنے گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے تھے اور آپ کا دایاں پہلو جی ہوا تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھوڑے سے گرنے کا واقعہ ذی الحج کے مہنے میں پیش آیا تھا۔ جو سن پانچ ہجری کے آخر میں پیش آیا تھا۔ اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران ادا کی جانے والی نماز میں بھی شریک ہوئے تھے۔ تو انہوں نے دونوں میں سے ہر ایک روایت اپنے لفظوں میں بیان کر دی۔ کیا آپ نے یہ بات نوٹ نہیں کی کہ انہوں نے اس نماز کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بلند آواز میں تکبیر کہہ رہے تھے۔ تاکہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں نماز ادا کریں جہاں تک اس نماز کا تعلق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے سے گرنے کے بعد اپنے گھر میں ادا کی تھی۔ تو اس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں تکبیر کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تاکہ لوگوں تک اپنی تکبیر کی آواز پہنچائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ چھوٹا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں تکبیر مسجد میں کہی تھی جو بڑی تھی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران نماز ادا کی تھی تو ہم نے جو چیز ذکر کی ہے۔ اس سے وہ بات مستند طور پر ثابت ہو گئی ہے اب یہ بات جائز نہیں ہو گی۔ کہ ان روایات میں سے کسی ایک کو پہلے سے موجود حکم کی ناسخ قرار دیا جائے، جیسا کہ ہم نے یہ بات ذکر کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2119»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (619): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، يزيد بن موهب ثقة، وباقي السند من رجال الشيخين غير أبي الزبير، فمن رجال مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں