🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

790. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن المصلي له الالتفات يمنة ويسرة في صلاته لحاجة تحدث ما لم يحول وجهه عن القبلة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ نمازی کو ضرورت پڑنے پر اپنی نماز میں دائیں اور بائیں دیکھنے کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ اپنا چہرہ قبلہ سے نہ ہٹائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2288
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُرَيْثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالا فِي صَلاتِهِ، وَلا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران دائیں اور بائیں طرف توجہ کر لیا کرتے تھے، البتہ آپ گردن موڑ کر پشت کے پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2288]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2285»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (998).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2289
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عِسْلِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلاةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران سدل (یعنی کپڑا لٹکانے) سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2289]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2286»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (650 و 651).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف، عسل بن سفيان ضعفوه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں