صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
861. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الزجر عن صلاة المرء في الفضاء بلا سترة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی بغیر سترہ کے کھلی جگہ میں نماز پڑھے
حدیث نمبر: 2362
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُصَلِّ إِلا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى، فَلْتُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم صرف کسی سترہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرو اور کسی شخص کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دو، اگر وہ نہیں مانتے تو تم اس کے ساتھ جھگڑا کرو کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2362]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2356»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة» (ص 82).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. أبو بكر الحنفي: هو عبد الكبير بن عبد المجيد البصر.