صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
908. باب الوتر - ذكر خبر رابع يصرح بأن الوتر غير فرض
وتر نماز کا بیان - چوتھی خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ وتر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 2413
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَلَمَّا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ: خَشِيتُ الْفَجْرَ فَنَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ؟" فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ" .
سعید بن یسار بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں سفر کر رہا تھا، جب مجھے صبح صادق قریب ہونے کا اندیشہ ہوا تو میں سواری سے اترا اور میں نے وتر ادا کر لیے، پھر میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ”تم کہاں رہ گئے تھے؟“ میں نے جواب دیا: مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ صبح صادق ہونے والی ہے، اس لیے میں سواری سے اترا اور میں نے وتر ادا کر لیے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں نمونہ نہیں ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 999، 1095، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1704، 2412، 2413، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1685، والترمذي فى (جامعه) برقم: 472، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1200، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1633، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4607» «رقم طبعة با وزير 2405»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.