🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

920. باب الوتر - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الصلاة ركعة واحدة غير جائز
وتر نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ایک رکعت کی نماز جائز نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2425
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، قَالَ:" فَقَامَ حُذَيْفَةُ وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ: صَفًّا خَلْفَهُ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلاءِ مَكَانَ هَؤُلاءِ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَلَمْ يَقْضُوا" .
ثعلبہ زہدم بیان کرتے ہیں: ہم سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں موجود تھے، انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ میں سے کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نمازِ خوف ادا کی ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے پیچھے لوگوں کی دو صفیں بنائیں، ایک صف ان کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی، انہوں نے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ پلٹ کر ان لوگوں کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے، تو انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور ان حضرات نے اپنی نماز کو مکمل نہیں کیا (یعنی صرف ایک ہی رکعت ادا کی دوسری رکعت ادا نہیں کی)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1343، 1365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1452، 2425، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1249، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1528، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1246، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6087، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23740» «رقم طبعة با وزير 2416»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (3/ 44)، «صحيح أبي داود» (1133). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، ثعلبة بن زهدم، قيل: له صحبة، ولا يصح، وهو تابعي ثقة روى له أبو داود والنسائي، وباقي السند على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں