صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
963. باب النوافل - ذكر الأمر بالاضطجاع بعد ركعتي الفجر لمن أراد صلاة الغداة
نفل نمازوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ فجر کی دو رکعتوں کے بعد اگر صبح کی نماز پڑھنا ہو تو لیٹنا چاہیے
حدیث نمبر: 2468
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ" ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يَجْزِي أَحَدُنَا ممشطاه إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَقِيلَ لابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ أَكْثَرَ وَجَبُنَّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ:" مَا ذَنْبِي إِنْ حَفِظْتُ شَيْئًا وَنَسُوا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص فجر کی دو رکعات سنت ادا کر لے، تو اسے دائیں پہلو کے بل لیٹ جانا چاہیے۔“ اس پر مروان نے ان سے کہا: کیا کسی شخص کے لیے یہ بات جائز ہے کہ وہ لیٹنے سے پہلے مسجد کی طرف چل پڑے؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: اس بات کی اطلاع سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ملی تو وہ بولے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زیادہ سختی کر دی ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا: کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو کہہ رہے ہیں، کیا آپ اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، لیکن انہوں نے ہم پر لازم ہونے والی چیزوں میں اضافہ کر دیا ہے، جب اس بات کی اطلاع سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا: میرا گناہ صرف یہ ہے کہ میں نے کچھ چیزیں یاد رکھی ہیں جنہیں وہ بھول گئے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2468]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1120، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2468، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1460، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1261، والترمذي فى (جامعه) برقم: 420، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1199، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4965، 4966، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9492» «رقم طبعة با وزير 2459»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1146). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، بشر بن معاذ العقدي، ذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 144، ووثقه النسائي ومسلمة بن القاسم، وقال ابن أبي حاتم: سئل أبي عنه فقال: صالح الحديث صدوق، ومن فوقه من رجال الشيخين.