علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
963. باب النوافل - ذكر الأمر بالاضطجاع بعد ركعتي الفجر لمن أراد صلاة الغداة
نفل نمازوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ فجر کی دو رکعتوں کے بعد اگر صبح کی نماز پڑھنا ہو تو لیٹنا چاہیے
حدیث نمبر: 2468
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ" ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يَجْزِي أَحَدُنَا ممشطاه إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَقِيلَ لابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ أَكْثَرَ وَجَبُنَّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ:" مَا ذَنْبِي إِنْ حَفِظْتُ شَيْئًا وَنَسُوا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص فجر کی دو رکعات سنت ادا کر لے، تو اسے دائیں پہلو کے بل لیٹ جانا چاہیئے۔“ اس پر مروان نے ان سے کہا: کیا کسی شخص کے لیے یہ بات جائز ہے، وہ لیٹنے سے پہلے مسجد کی طرف چل پڑے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: اس بات کی اطلاع سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ملی، تو وہ بولے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے زیادہ سختی کر دی ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا: کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جو کہہ رہے ہیں کیا آپ اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں انہوں نے جواب دیا: جی نہیں لیکن انہوں نے ہم پر لازم ہونے والی چیزوں میں اضافہ کر دیا ہے، جب اس بات کی اطلاع سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا: میرا گناہ صرف یہ ہے، میں نے کچھ چیزیں یاد رکھی ہیں، جنہیں وہ بھول گئے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2468]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2459»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1146).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، بشر بن معاذ العقدي، ذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 144، ووثقه النسائي ومسلمة بن القاسم، وقال ابن أبي حاتم: سئل أبي عنه فقال: صالح الحديث صدوق، ومن فوقه من رجال الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2468 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي