صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1050. فصل في قيام الليل - ذكر إيجاب دخول الجنان للقائم في سواد الليل يتملق إلى مولاه
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ رات کے اندھیرے میں قیام کرنے والے جو اپنے مولا سے التجا کرتا ہے، اس کے لیے جنت میں داخلہ واجب ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2559
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي، وَقَرَّتْ عَيْنِي، أَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: " كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ" . فَقُلْتُ: فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ إِذَا عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: " أَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَأَفْشِ السَّلامَ، وَصِلِ الأَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلامٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، أَرَادَ بِهِ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا جَوَابُ الْمُصْطَفَى إِيَّاهُ، حَيْثُ قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ"، فَهَذَا جَوَابٌ خَرَجَ عَلَى سُؤَالٍ بِعَيْنِهِ، لا أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ خُلِقَ مِنَ الْمَاءِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَخْلُوقًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ کو دیکھا تو میرا نفس پاکیزہ ہو گیا اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، آپ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتا دیجیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔“ میں نے عرض کی: آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیں کہ جب میں اس پر عمل کروں تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھانا کھلاؤ، سلام کو پھیلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت نوافل ادا کرو جب لوگ سو رہے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ”مجھے ہر چیز کے بارے میں بتا دیں“ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہر اس چیز کے بارے میں بتائیں جو پانی سے پیدا کی گئی ہے، اور اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو دیا جانے والا جواب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔“ تو یہ جواب اسی طرح صادر ہوا ہے جس طرح سوال تھا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر چیز کو پیدا ہی پانی سے کیا گیا ہے، خواہ وہ مخلوق نہ بھی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2559]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 508، 2559، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7267، 7371، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8047» «رقم طبعة با وزير 2550»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الموارد» (642).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين غير أبي ميمونة