صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1083. فصل في قيام الليل - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان يصلي ما وصفنا من صلاة الليل بعد رقده
قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیان کردہ رات کی نماز نیند کے بعد پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2592
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ،" وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ آيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ،" فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، فَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کی خالہ تھیں، وہ بیان کرتے ہیں۔ میں بستر پر چوڑائی کی سمت لیٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ لمبائی کی سمت میں لیٹ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ جب نصف رات ہوئی یا شاید اس سے کچھ پہلے یا بعد کی بات ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر نیند کے اثرات کو دور کیا، پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی پھر آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے آپ نے اس سے وضو کیا، اور اچھی طرح وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اٹھا میں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں آیا اور آ کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انپا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر اسے ملنے لگے آپ نے دو رکعات نماز ادا کی پھر آپ نے دو رکعات ادا کی پھر دو رکعات ادا کی پھر دو رکعات ادا کی پھر دو رکعات ادا کی پھر آپ نے وتر ادا کیے۔ پھر آپ لیٹ گئے (پھر سو گئے) یہاں تک کہ مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اٹھے آپ نے دو مختصر رکعات ادا کی پھر آپ صبح کی نماز پڑھانے کے لیے تشریف لے گئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2592]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2583»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1237): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين