صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1183. باب المسافر - ذكر ما يقول الرجل عند الركوب لسفر يريد الخروج فيه
سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کہتا ہے جب وہ سفر کے لیے سوار ہوتا ہے اور نکلنا چاہتا ہے
حدیث نمبر: 2695
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ كَبَّرَ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ سورة الزخرف آية 13، يَقْرَأُ الآيَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، وَاطْوِ لَنَا الأَرْضَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا فَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا"، وَكَانَ إِذَا رَجَعَ قَالَ:" آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہونے کے وقت جب اپنی سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ تکبیر «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہتے تھے، پھر یہ پڑھتے تھے: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ﴾ [سورة الزخرف: 13] ”پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس (سواری کو) مسخر کر دیا ورنہ ہم اس پر قابو پانے والے نہیں تھے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آیات تلاوت کرتے تھے اور پھر یہ کہتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا» ”اے اللہ! میں اپنے اس سفر کے دوران نیکی اور پرہیزگاری کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل کا بھی جس سے تو راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہمارے لیے سفر کو آسان کر دے اور ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی ہے اور (ہماری غیر موجودگی میں) گھر والوں کا نگران ہے۔ اے اللہ! تو ہمارے اس سفر میں ہمارے ساتھ رہنا اور ہمارے گھر والوں کا بھی خیال رکھنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس آتے تھے، تو یہ کہتے تھے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» ”ہم رجوع کرنے والے ہیں اور توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2695]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1797، 2995، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1342، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2542، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2695، 2696، 2707، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3022، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2599، 2770، والترمذي فى (جامعه) برقم: 950، 3447، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4583» «رقم طبعة با وزير 2684»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2339): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح