🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. باب فِي الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 43
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَمَعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ وَهُوَ أَصْغَرُنَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ السِّدْرَةِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 43]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے، ایک غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس کے پاس لوٹا تھا اور وہ ہم سے چھوٹی عمر کا تھا، تو اس نے اس برتن کو بیری کے پاس رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب حاجت سے فارغ ہوئے تو ہمارے پاس تشریف لے آئے اور (اس موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی سے استنجاء کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 43]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 15 (150)، 16 (151)، 17 (152)، 56 (217)، الصلاة 93 (500)، صحیح مسلم/الطھارة 21 (270، 271)، سنن النسائی/الطھارة 41 (45)، (تحفة الأشراف: 1094)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/171) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (152) صحيح مسلم (270)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ قُبَاءٍ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا سورة التوبة آية 108، قَالَ: كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ، فَنَزَلَتْ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا» ۱؎ اہل قباء کی شان میں نازل ہوئی ہے، وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے، انہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 44]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [سورة التوبة: 108] اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے تو ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 44]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/التفسیر 10 (3100)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 28 (357)، (تحفة الأشراف: 12309) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک صاف ہونے کو پسند کرتے ہیں (التوبہ:۱۰۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
فيه ابراهيم بن ابي ميمونة مجھول، وله شاھد قوي في مسند احمد (6/ 6 ح 23833)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں