🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1268. باب صلاة الجمعة - ذكر البيان بأن الله جل وعلا بتفضله يعطي الجائي إلى الجمعة بأوصاف معلومة بكل خطوة عبادة سنة
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا اپنے فضل سے جمعہ کو معلوم شرائط کے ساتھ آنے والے کو ہر قدم پر ایک سال کی عبادت کا اجر دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2781
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ بَكَّرَ، وَابْتَكَرَ، وَمَشَى فَدَنَا، وَاسْتَمَعَ، وَأَنْصَتَ، وَلَمْ يَلْغُ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عَمَلَ سَنَةٍ صِيَامَهَا وَقِيَامَهَا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ:" مَنْ غَسَّلَ": يُرِيدُ غَسَلَ رَأْسَهُ،" وَاغْتَسَلَ": يُرِيدُ اغْتَسَلَ بِنَفْسِهِ، لأَنَّ الْقَوْمَ كَانَتْ لَهُمْ جُمَمٌ احْتَاجُوا إِلَى تَعَاهُدِهَا، بَكَّرَ وَابْتَكَرَ: يُرِيدُ بِهِ بَكَّرَ إِلَى الْغُسْلِ، وَابْتَكَرَ إِلَى الْجُمُعَةِ".
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتے ہوئے اچھی طرح غسل کرے، پھر وہ جلدی جائے اور پیدل چل کر جائے اور (امام کے) قریب ہو اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے اور کسی لغو حرکت کا مرتکب نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک قدم کے عوض میں اسے ایک سو سال کے (نفلی) روزوں اور نوافل کا ثواب عطا کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”جو شخص غسل دے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ شخص اپنے سر کو دھوئے، اور ”وہ شخص غسل کرے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ شخص اپنے جسم کو دھوئے، کیونکہ لوگوں کے بال بڑے ہوتے تھے، تو انہیں اہتمام کے ساتھ ان کو دھونے کی ضرورت پیش آتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”وہ شخص جلدی جائے اور جلدی کرے“ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ غسل کے لیے جلدی کرے اور جمعے کے لیے جلدی جائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2781]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1758، 1767، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2781، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1044، وأبو داود فى (سننه) برقم: 345، والترمذي فى (جامعه) برقم: 496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1087، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16424» «رقم طبعة با وزير 2770»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (373). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں