🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1269. باب صلاة الجمعة - ذكر الخبر الدال على صحة من تأولنا قوله من غسل واغتسل
جمعہ کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے قول "جو غسل کرے اور غسل کیا جائے" کی تشریح کی صحت کی دلیل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2782
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : زَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْسِلُوا رُؤُوسَكُمْ إِلا أَنْ تَكُونُوا جُنُبًا، وَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ" ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا الطِّيبُ فَلا أَدْرِي، وَأَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ" إِلا أَنْ تَكُونُوا جُنُبًا"، فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الاغْتِسَالَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ يُجْزِئُ عَنِ الاغْتِسَالِ لِلْجُمُعَةِ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ لَيْسَ بِفَرْضٍ، إِذْ لَوْ كَانَ فَرْضًا لَمْ يُجْزِئْ أَحَدُهُمَا عَنِ الآخَرِ.
طاؤس یمانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: تم لوگ جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سر کو دھو لو، ماسوائے اس کے کہ تم جنبی ہو، اور تم خوشبو بھی لگاؤ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جہاں تک خوشبو کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے، البتہ جہاں تک غسل کا تعلق ہے تو یہ بات ٹھیک ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: ماسوائے اس کے کہ تم جنبی ہو اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جمعہ کے دن غسل جنابت کرنا جبکہ وہ صبح صادق ہو جانے کے بعد ہو، یہ جمعہ کے لیے غسل کرنے کی جگہ کافی ہو گا۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا فرض نہیں ہے؛ کیونکہ اگر یہ فرض ہوتا تو ان دونوں میں سے کوئی ایک غسل دوسرے کی جگہ کافی نہ ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2782]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 884، 885، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 848، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1759، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2782، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1693، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1098، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1437، 6035، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2420» «رقم طبعة با وزير 2771»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الترغيب» (692): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں