صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1290. باب صلاة الجمعة - ذكر الإباحة للإمام إذا نزل المنبر يريد إقامة الصلاة أن يشتغل ببعض رعيته في حاجة يقضيها له ثم يقيم الصلاة
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ اگر امام منبر سے اتر کر نماز قائم کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنی رعایا میں سے کسی کی ضرورت پوری کر سکتا ہے پھر نماز قائم کرے
حدیث نمبر: 2805
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ ، قَالا: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ، فَتُقَامُ الصَّلاةُ، فَيَجِيءُ إِنْسَانٌ، فَيُكَلِّمُهُ فِي حَاجَةٍ، فَيَقُومُ مَعَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُصَلِّي" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی۔ ایک شخص آیا اور اپنے کسی کام کے سلسلے میں آپ سے بات چیت کرنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہے یہاں تک کہ اس شخص نے اپنی حاجت مکمل کر لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2794»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره دون ذكر المنبر - «صحيح أبي داود» (198)، «ضعيف أبي داود» (208).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح