🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1319. باب صلاة الكسوف - ذكر الأمر بالدعاء والاستغفار مع الصلاة عند رؤية كسوف الشمس والقمر
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سورج یا چاند گرہن دیکھنے پر نماز کے ساتھ دعا اور استغفار کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2836
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا، خَشِينَا أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ، وَرُكُوعٍ، وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ فِي صَلاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ، وَدُعَائِهِ، وَاسْتِغْفَارِهِ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا تو آپ گھبرا کر کھڑے ہوئے، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ قیامت آنے والی ہے، آپ مسجد میں تشریف لائے، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے طویل قیام، رکوع اور سجدے والی نماز ادا کی، میں نے آپ کو کسی نماز میں اتنا طویل قیام، رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر آپ نے (خطبہ دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”بیشک یہ نشانیاں ہیں، جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے نمودار نہیں ہوتی ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے، تاکہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے، تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اللہ کے ذکر، اس سے دعا مانگنے اور اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1059، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 912، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1371، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2836، 2847، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1502، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1903، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6453» «رقم طبعة با وزير 2825»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «جزء الكسوف»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں