🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر البيان بأن الأمراض والأسقام تكفر خطايا المرء المسلم وإن قلت
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ بیماریاں اور امراض، چاہے کم ہوں، مسلمان کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2928
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ هَذِهِ الأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَاذَا لَنَا مِنْهَا؟ فَقَالَ:" كَفَّارَاتٌ" فَقَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ قَلَّتْ، قَالَ:" وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا" قَالَ: فَدَعَا عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ، وَأَنْ لا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلا عَنْ عُمْرَةٍ وَلا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلا صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ، قَالَ: فَمَا مَسَّ إِنْسَانٌ جَسَدَهُ إِلا وَجَدَ حَرَّهَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: زَيْنَبُ هَذِهِ هِيَ بِنْتُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَالَّذِي دَعَا عَلَى نَفْسِهِ هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے یہ بیماریاں جو ہمیں لاحق ہوتی ہیں ہمیں ان کا کیا فائدہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کفارہ بن جاتی ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر یہ تھوڑی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ کانٹا لگے یا اس سے بھی کم ہو۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اپنے لیے یہ دعا کی کہ اسے مرتے دم تک بخار رہے، لیکن وہ بخار اس کے لیے حج یا عمرے یا اللہ کی راہ میں جہاد یا باجماعت نماز میں رکاوٹ نہ بنے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جو بھی شخص اس کے جسم کو ہاتھ لگاتا تھا اسے اس کی تپش محسوس ہوتی تھی، یہاں تک کہ اس شخص کا انتقال ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) زینب نامی راوی خاتون زینب بنت کعب بن مالک ہیں اور جن صاحب نے اپنے بارے میں دعا کی تھی وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 2928]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2928، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7949، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7447، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11353» «رقم طبعة با وزير 2917»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (4/ 153).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں