سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب الْوُضُوءِ بِمَاءِ الْبَحْرِ
باب: سمندر کے پانی سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 83
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ".
قبیلہ بنو عبدالدار کے ایک فرد مغیرہ بن ابی بردہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ (عبداللہ مدلجی نامی) ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے، کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پانی بذات خود پاک اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 83]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ (پینے کے لیے) تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں۔ اگر ہم اس سے وضو کرنے لگیں، تو پیاسے رہ جائیں، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 83]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 52 (69)، سنن النسائی/الطھارة 47 (59)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 38 (386)، (تحفة الأشراف: 14618)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 3(12)، مسند احمد (2/237، 361، 378)، سنن الدارمی/الطھارة 53 (755) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (479)
مشكوة المصابيح (479)