🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الْوُضُوءِ
باب: وضو کرتے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جس نے وضو کے شروع میں «بسم الله» نہیں کہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 101]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں اور جو شخص وضو کے شروع میں اللہ کا نام نہ لے ( «بِسْمِ اللّٰهِ» نہ پڑھے) اس کا وضو نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطھارة 41 (399)، (تحفة الأشراف: 13476)، سنن الترمذی/الطہارة 20 (25)، سنن النسائی/الطہارة 62 (78)، مسند احمد (2/418) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (403)
وللحديث شواهد منها ما أخرجه ابن ماجه (397) وسنده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ، قَالَ: وَذَكَرَ رَبِيعَةُ، أَنَّ تَفْسِيرَ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ"، أَنَّهُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ وَيَغْتَسِلُ، وَلَا يَنْوِي وُضُوءًا لِلصَّلَاةِ وَلَا غُسْلًا لِلْجَنَابَةِ.
عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں کہ ربیعہ نے ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: «لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه» کی تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وضو اور غسل کرے لیکن نماز کے وضو اور جنابت کے غسل کی نیت نہ کرے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 102]
جناب ربیعہ رحمہ اللہ (ربیعہ الرأي ایک تابعی اور مفتی مدینہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث جو شخص وضو کے شروع میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں۔ کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو وضو اور غسل کرتا ہے اور وضو سے نماز کی اور غسل سے طہارت کی نیت نہیں کرتا (ایسے شخص کا وضو اور غسل درست نہ ہو گا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18635) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن وهب المصري مدلس (طبقات ابن سعد: 518/7،الفتح المبين: ص 25) و عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں