سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب فِي الرَّجُلِ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا
باب: سو کر اٹھنے والا آدمی ہاتھ دھونے سے پہلے اسے برتن میں نہ ڈالے۔
حدیث نمبر: 103
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو سو کر اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے تین بار دھو نہ لے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 103]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو جاگے تو اپنا ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں نہ ڈبوئے حتیٰ کہ تین بار دھو لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ (سوتے میں) کہاں کہاں لگتا رہا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 26 (278)، (تحفة الأشراف: 14609، 12516)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 26 (162)، سنن الترمذی/الطھارة 19 (24)، سنن النسائی/الطھارة 1 (1)، الغسل 29 (440) سنن ابن ماجہ/الطھارة 40 (393)، موطا امام مالک/الطھارة 2(9)، مسند احمد (2/241، 253)، سنن الدارمی/الطھارة 78 (793) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الثلاث
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (278)
حدیث نمبر: 104
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا رَزِينٍ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے اس میں «ثلاث مرات» (تین مرتبہ) کے بجائے «مرتين أو ثلاثا» (دو مرتبہ یا تین مرتبہ) (شک کے ساتھ) آیا ہے اور (سند میں) ابورزین کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 104]
امام مسدد رحمہ اللہ سے عیسیٰ بن یونس رحمہ اللہ کے واسطے سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے مگر اس میں ہے کہ ”دوبار دھوئے یا تین بار“، اس سند میں ابورزین رحمہ اللہ کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12453)، مسند احمد (2/253) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وانظر الحديث السابق (103)
وانظر الحديث السابق (103)
حدیث نمبر: 105
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ:سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ، أَوْ أَيْنَ كَانَتْ تَطُوفُ يَدُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے تین بار دھو نہ لے اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں رہا؟ یا کدھر پھرتا رہا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 105]
ابو مریم کہتے ہیں، میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے حتیٰ کہ اسے تین بار دھو لے کیونکہ تم میں سے کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری۔“ یا فرمایا: ”اس کا ہاتھ نہ معلوم کہاں کہاں پھرتا رہا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15458) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
دار قطني: 1/ 50 ح 127، ابن حبان، الاحسان: 1058، وانظر صحيح بخاري: 162، وصحيح مسلم: 278
دار قطني: 1/ 50 ح 127، ابن حبان، الاحسان: 1058، وانظر صحيح بخاري: 162، وصحيح مسلم: 278