🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

116. فصل في الموت وما يتعلق به من راحة المؤمن وبشراه وروحه وعمله والثناء عليه - ذكر الإخبار عن وصف ما يبشر به المؤمن والكافر عند حلول المنية بهما
فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ موت کے وقت مؤمن اور کافر کو کیا بشارت دی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3010
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ؟ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ:" لَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ، وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ ہم میں سے ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں ہے بلکہ جب مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی رضا مندی اور جنت کے حوالے سے خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جب کافر کو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کے بارے میں بتایا جاتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2684، 2685، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3010، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1833، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1067، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4264، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8675، والحميدي فى (مسنده) برقم: 227» «رقم طبعة با وزير 2999»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں