صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
166. فصل في الصلاة على الجنازة - ذكر الإباحة للمرء الصلاة على كل مسلم مات من أهل القبلة وإن كان عليه دين
فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی ہر اس مسلمان پر جنازہ کی نماز پڑھ سکتا ہے جو اہل قبلہ میں سے مرے، چاہے اس پر قرض ہو
حدیث نمبر: 3064
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ فَقَالَ:" أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ دِينَارَانِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ قَالَ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ" .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے جس کا ایسی حالت میں انتقال ہوا ہو کہ اس کے ذمے قرض ہو ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک میت لائی گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس کے ذمے قرض ہے لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں دو دینار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی ادائیگی میں اپنے ذمے لیتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی جباللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات عطا کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ہر مومن کی جان سے زیادہ اس کے قریب ہوں، تو جو شخص قرض چھوڑ کر جائے گا اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے ورثاء کو ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3064]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 867، وابن الجارود فى "المنتقى"، 326، 327، 1190، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1785، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 10، 3062، 3064، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2359، 8690، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1577، 1961، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1799، 2100، 5861، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2954، 2956، 3343، والدارمي فى (مسنده) برقم: 212، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 45، 2416، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5834، 5835، 5836، 5848، 5879، 5880، 5881، 11515، 11519، 11523، 13123، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14375، 14376، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1778، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2111، 2119، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 15257، 15262، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12143، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 4145، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9418» «رقم طبعة با وزير 3053»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 27).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين