صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
223. فصل في أحوال الميت في قبره - ذكر الإخبار عن وصف التنين الذي يسلط على الكافر في قبره
قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس اژدھے کی کیفیت کی اطلاع جو کافر پر اس کی قبر میں مسلط کیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 3122
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ ، حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ فِي قَبْرِهِ لَفِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، وَيُرْحَبُ لَهُ قَبْرُهُ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَيُنَوَّرُ لَهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ أَتَدْرُونَ فِيمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى سورة طه آية 124 أَتَدْرُونَ مَا الْمَعِيشَةُ الضَّنْكَةُ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ:" عَذَابُ الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ يُسَلَّطَ عَلَيْهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا، أَتَدْرُونَ مَا التِّنِّينُ؟ سَبْعُونَ حَيَّةً، لِكُلِّ حَيَّةٍ سَبْعُ رُؤوسٍ يِلْسَعُونَهُ، وَيَخْدِشُونَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مومن کی قبر ایک سرسبز باغ ہوتی ہے، اس کے لیے قبر کو ستر گز تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے قبر کو یوں روشن کر دیا جاتا ہے، جس طرح چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو یہ آیت ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ﴾ [سورة طه: 124] کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد قبر میں کافر کو دیا جانے والا عذاب ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اس پر ننانوے اژدھے مسلط کیے جائیں گے، کیا تم جانتے ہو، ان میں سے ایک اژدہا کیا ہو گا؟ وہ ستر سانپوں جتنا ہو گا جن میں سے ہر ایک سانپ کے سات سر ہوں گے جس کے ذریعے وہ اسے کاٹیں گے اور نوچیں گے اور ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3122]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3113، 3118، 3119، 3122، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 109، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8682» «رقم طبعة با وزير 3112»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (4/ 182).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن