🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

224. فصل في أحوال الميت في قبره - ذكر الإخبار بتعذيب الله موتى الكفرة بما نيح عليهم في الدنيا
قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس بات کی اطلاع کہ اللہ کافروں کے مردوں کو دنیا میں ان پر نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3123
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَغْفِرُ اللَّهُ لأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا" .
عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنا، ان کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما یہ کہتے ہیں کہ میت کو زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن (یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کی مغفرت کرے، انہوں نے جھوٹ نہیں کہا ہے، لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہوئی ہے، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے تھے جس پر رویا جا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اس عورت پر رو رہے ہیں اور اس عورت کو اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3123]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1286، 1289، 3978، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 928، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3123، 3133، 3136، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1856، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1004، 1006، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1595، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7272، وأحمد فى (مسنده) برقم: 294» «رقم طبعة با وزير 3113»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں