صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
228. فصل في أحوال الميت في قبره - ذكر الخبر الدال على أن عذاب القبر قد يكون من ترك الاستبراء من البول
قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ قبر کا عذاب پیشاب سے استبراء نہ کرنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے
حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِهِ كَهَيْئَةِ الدَّرَقَةِ، فَوَضَعَهَا، ثُمَّ بَالَ إِلَيْهَا فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: انْظُرُوا إِلَيْهِ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، قَالَ: فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" وَيْحَكَ، مَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمْ شَيْءٌ مِنَ الْبَوْلِ، قَرَضُوا بِالْمَقَارِيضِ فَنَهَاهُمْ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ" .
سیدنا عبدالرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس میں ڈھال نما کوئی چیز تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا اور اس کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا: ان کی طرف دیکھو، یہ یوں پیشاب کر رہے ہیں جس طرح عورت پیشاب کرتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن لی اور ارشاد فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے شخص کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ ان لوگوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے جسم پر پیشاب لگ جاتا تھا، تو وہ اسے قینچی کے ذریعے کاٹ دیتے تھے، ایک شخص نے انہیں اس سے منع کیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 3127]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 147، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3127، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 662، 663، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 30، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 26، وأبو داود فى (سننه) برقم: 22، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 346، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 495، 514، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18035، 18037، والحميدي فى (مسنده) برقم: 906» «رقم طبعة با وزير 3117»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (16).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين