🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

71. باب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: عضو تناسل چھونے سے وضو نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 182
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ،" مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ؟ أَوْ قَالَ: بَضْعَةٌ مِنْهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وشعبة، وابن عيينة، وجرير الرازي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے، یا کہا: ٹکڑا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 182]
قیس بن طلق اپنے والد (طلق رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ایک آدمی آیا وہ بظاہر بدوی (دیہاتی) تھا، کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے وضو کے بعد اپنے ذکر کو ہاتھ لگا لیا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے! امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ہشام بن حسان، سفیان ثوری، شعبہ، ابن عیینہ اور جریر رازی نے محمد بن جابر سے، انہوں نے قیس بن طلق سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 62 (85)، سنن النسائی/الطھارة 119 (165)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 64 (483)، (تحفة الأشراف: 5023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/22، 23) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں عضو تناسل کے چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے کی دلیل ہے، جب کہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عضو تناسل کے مس (چھونے) کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں،اس لئے علماء نے ان دونوں کے درمیان تطبیق و توفیق کی صورت یہ نکالی ہے کہ عضو تناسل پر پردہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور پردہ نہ ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ طلق بن علی کی حدیث کے الفاظ «الرجل يمس ذكره في الصلاة» سے یہی مفہوم نکلتا ہے، دوسری صورت تطبیق کی یہ ہے کہ اگر شہوت کے ساتھ ہے تو ناقض وضو ہے بصورت دیگر نہیں، واللہ اعلم بالصواب۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (320)
وحقق ابن حبان وغيره بأنه حديث منسوخ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 183
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ فِي الصَّلَاةِ.
مسدد کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اس میں «في الصلاة» کا اضافہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 183]
محمد بن جابر، قیس بن طلق سے، وہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے اسی سند سے اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ دورانِ نماز میں (اگر کوئی ہاتھ لگائے تو فرمایا کہ یہ اس کے جسم کا ایک ٹکڑا ہی ہے[سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 5023) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن جابر ضعيف ضعفه الجمهور وقال الھيثمي: وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 191)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں