🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. باب الوعيد لمانع الزكاة - ذكر البيان بأن قول أبي ذر هذا سمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يقله من تلقاء نفسه
زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کا بیان کہ ابو ذر کا یہ قول انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نہ کہ خود سے کہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3260
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ: " بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ فِي ظُهُورِهِمْ بِكَيٍّ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ، ثُمَّ تَنَحَّى، فَقَعَدَ" ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو ذَرٍّ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُهُ قُبَيْلُ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ إِلا شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟ قَالَ: خُذْهُ، فَإِنَّ فِيهِ الِيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ.
احنف بن قیس کہتے ہیں: میں قریش کے کچھ افراد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے، انہوں نے فرمایا: خزانے جمع کرنے والوں کو یہ اطلاع دے دو کہ ان کی پشتوں کو اس چیز کے ذریعے داغا جائے گا جو ان کے پہلو سے نکل جائے گی اور اس چیز کے ذریعے داغا جائے گا جو ان کی گدی کی طرف ڈالی جائے گی، تو سامنے کی طرف سے نکل جائے گی۔ پھر وہ ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گئے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں اٹھ کر ان کے پاس گیا، میں نے کہا: ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے آپ کو جو بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے صرف وہی بات بیان کی ہے، جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ میں نے دریافت کیا: پھر آپ اس تنخواہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: تم اسے حاصل کر لو، کیونکہ اب اس کے ذریعے ضروریات پوری کی جاتی ہیں، لیکن جب یہ تمہارے دین کی قیمت بنے، تو تم اسے چھوڑ دو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1407، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 992، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3259، 3260، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13163، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21824» «رقم طبعة با وزير 3249»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (992/ 35).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں