سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب التَّشْدِيدِ فِي ذَلِكَ
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 194]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز آگ سے پکی ہو (اس کے استعمال سے) وضو لازم ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13470)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 23 (352)، سنن الترمذی/الطھارة 58 (79)، سنن النسائی/الطھارة 122 (171، 172، 173، 174)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 65 (485)، مسند احمد (2/458، 503، 529) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہو گیا، ناسخ احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 195
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَسَقَتْهُ قَدَحًا مِنْ سَوِيقٍ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي أَلَا تَوَضَّأُ؟، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، أَوْ قَالَ: مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، يَا ابْنَ أَخِي.
ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ وہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا، پھر (ابوسفیان) نے پانی منگا کر کلی کی، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جنہیں آگ نے بدل ڈالا ہو“، یا فرمایا: ”جنہیں آگ نے چھوا ہو، ان چیزوں سے وضو کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی حدیث میں لفظ: «يا ابن أخي» ”اے میرے بھتیجے“ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 195]
جناب ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ وہ (اپنی خالہ ام المؤمنین) سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے، پس انہوں نے ان کو ستو کا ایک پیالہ پلایا تو انہوں نے (یعنی ابوسفیان نے) پانی مانگا اور کلی کی، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ”بھانجے! کیا وضو نہیں کرو گے؟ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو اس سے وضو کرو۔“ یا فرمایا: ”جس چیز کو آگ پہنچی ہو۔“”امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زہری کی روایت میں (بھانجے کی بجائے) بھتیجے کا لفظ آیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 122 (180)، (تحفة الأشراف: 15871)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/326، 327) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (180) وسنده صحيح
أخرجه النسائي (180) وسنده صحيح