سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. باب فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 187
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 187]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) بکری کا گوشت تناول فرمایا اور وہ دستی (شانے) کا گوشت تھا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 24 (354)، (تحفة الأشراف: 5979)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 15 (207)، سنن النسائی/الطھارة 123 (184)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (488)، موطا امام مالک/الطھارة 5(19)، مسند احمد (1/226) (صحیح)»
وضاحت: اس مسئلے کا پس منظر یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں آگ پر پکی چیز استعمال کرنے سے وضو کرنے کا حکم تھا جو بعد میں منسوخ ہو گیا، مگر کچھ لوگوں کو منسوخ ہونے کا علم نہ ہو سکا اور وہ بدستور وضو کرنے کے قائل رہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (207) صحيح مسلم (354)
حدیث نمبر: 188
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:" ضِفْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ، وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ، قَالَ: فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ، وَقَالَ: مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ؟ وَقَامَ يُصَلِّ"، زَادَ الْأَنْبَارِيُّ: وَكَانَ شَارِبِي وَفَى فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ، أَوْ قَالَ: أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا، وہ بھونی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے، اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ آئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی، تو آپ نے چھری رکھ دی، اور فرمایا: ”اسے کیا ہو گیا؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں؟“، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: ”میری موچھیں بڑھ گئی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا“، یا فرمایا: ”میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 188]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بکری کے) پہلو کے بارے میں فرمایا تو وہ بھونا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی اور اس سے میرے لیے کاٹنے لگے۔ (اس اثنا میں) بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری رکھ دی اور فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے، خاک آلود ہوں اس کے ہاتھ!“ اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ انباری نے مزید بیان کیا اور کہا کہ میری (مغیرہ رضی اللہ عنہ کی) مونچھیں لمبی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک رکھ کے اوپر سے کاٹ دیں یا یوں کہا: ”مسواک رکھ کر کاٹے دیتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «* تخريج:تفرد بہ أبو داود، سنن الترمذی/الشمائل (165)، (تحفة الأشراف: 11530)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/252) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث سے ثابت ہوا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہیں آتا بلکہ یہ حکم منسوخ ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ کے لیے آپ نے جو کلمہ استعمال فرمایا وہ عام سا جملہ تھا، بددعا مقصود نہ تھی۔ یعنی اسے اتنی جلدی پڑی تھی کہ میرے کھانے سے فارغ ہو جانے کا انتظار تک نہیں کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ کا اس سے استدلال یہ ہے کہ مقرر شدہ امام کو کھانے کی بنا پر تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ مونچھیں چھوٹی ہونی چاہییں اور بڑے کو حق حاصل ہے کہ اپنے عزیز کی بڑھی ہوئی مونچھیں کتر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4236)
شمائل ترمذي: ح 165 ص 195
مشكوة المصابيح (4236)
شمائل ترمذي: ح 165 ص 195
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 189]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دستی کا گوشت تناول فرمایا اور اپنے ہاتھ نیچے بچھی دری (یا ٹاٹ) سے صاف کیے، پھر نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (488)، (تحفة الأشراف: 6110) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (488)
سماك ضعيف عن عكرمة وصحيح الحديث عن غيره (تقدم: 68)
ولأصل الحديث شواھد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
إسناده ضعيف
ابن ماجه (488)
سماك ضعيف عن عكرمة وصحيح الحديث عن غيره (تقدم: 68)
ولأصل الحديث شواھد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَشَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت نوچ کر کھایا پھر نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 190]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دستی کا گوشت دانتوں سے نوچ کر کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 6551)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/279، 361) (صحیح)»
وضاحت: دانتوں سے نوچ کر کھانا سنت ہے اور لذت کا باعث بھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شواھد كثيرة عند البخاري: 3340 و مسلم: 194 وغيرھما
وله شواھد كثيرة عند البخاري: 3340 و مسلم: 194 وغيرھما
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ:" قَرَّبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت پیش کیا، تو آپ نے کھایا، پھر وضو کے لیے پانی منگایا، اور اس سے وضو کیا، پھر ظہر کی نماز ادا کی، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 191]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی اور گوشت پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا، پھر پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا، پھر ظہر کی نماز پڑھی، پھر باقی ماندہ کھانا منگوایا اور کھایا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور وضو نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3063)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، سنن الترمذی/الطھارة 59 (80)، سنن النسائی/الطھارة 123 (185)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 66 (489)، مسند احمد (3/322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 192
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كَانَ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا اخْتِصَارٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 192]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ پر پکی چیزوں کے استعمال سے وضو کرنا چھوڑ دیا تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یہ روایت پہلی حدیث کا اختصار ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الطہارة 123 (185)، (تحفة الأشراف: 3047) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وصححه ابن خزيمة (43) وذكر الشافعي له علة – إن صحة – فالحديث حسن، وانظر أنوار السنن (168)
وصححه ابن خزيمة (43) وذكر الشافعي له علة – إن صحة – فالحديث حسن، وانظر أنوار السنن (168)
حدیث نمبر: 193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مِصْرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ،قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ رَجُلٍ، فَمَرَّ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، فَخَرَجْنَا فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَبُرْمَتُهُ عَلَى النَّارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَطَابَتْ بُرْمَتُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَتَنَاوَلَ مِنْهَا بَضْعَةً، فَلَمْ يَزَلْ يَعْلُكُهَا حَتَّى أَحْرَمَ بِالصَّلَاةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ".
عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ مصر میں ہمارے پاس آئے، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: ”ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے پوچھا: ”کیا تمہاری ہانڈی پک گئی؟“، اس نے جواب دیا: ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر (تحریمہ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 193]
عبید بن ثمامہ مرادی نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ جو کہ اصحاب رسول میں سے تھے، ہمارے ہاں مصر میں تشریف لائے۔ میں نے انہیں وہاں مسجد میں حدیث بیان کرتے سنا، کہہ رہے تھے کہ مجھے یاد ہے کہ میں ایک شخص کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجلس میں ساتواں فرد تھا یا چھٹا تھا کہ بلال رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی تو ہم نکلے اور ایک شخص کے پاس سے گزرے، اس کی ہنڈیا آگ پر رکھی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہاری ہنڈیا تیار ہو گئی ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان!“ تو آپ نے اس سے گوشت کی ایک بوٹی لی اور کھاتے ہوئے چلے گئے حتیٰ کہ نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5233) (ضعیف)» (اس کا راوی ”عبید بن ثمامہ“ لَیِّن الحدیث ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ثمامة: لا يعرف (الكاشف للذھبي: 3660)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
إسناده ضعيف
ابن ثمامة: لا يعرف (الكاشف للذھبي: 3660)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20