صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
117. صدقة التطوع - ذكر الإخبار عما يستحب للمسلم من نظرة لآخرته وتقديم ما قدر من هذه الدنيا لنفسه
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع جو مسلمان کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی آخرت کی فکر کرے اور اس دنیا سے جو کچھ ممکن ہو اپنے لیے آگے بھیجے
حدیث نمبر: 3330
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّكُمْ مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ، قَالَ:" اعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ"، قَالُوا: مَا نَعْلَمُ إِلا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ إِلا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ"، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّمَا مَالُ أَحَدِكُمْ مَا قَدَّمَ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کون شخص ایسا ہے جسے اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے وارث کے مال کے مقابلے میں اپنا مال زیادہ محبوب ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ دیکھ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو یہی سمجھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کے نزدیک اس کے وارث کا مال اس کے اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے۔“ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیسے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک شخص کا مال وہ ہے جسے وہ (صدقہ و خیرات کر کے) آگے بھیج دے اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جسے وہ (مرنے کے بعد) پیچھے چھوڑ جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3330]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6442، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3330، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3614، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6406، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6605، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3696» «رقم طبعة با وزير 3320»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1486).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين