🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

136. صدقة التطوع - ذكر محبة الله جل وعلا للمتصدق إذا تصدق لله سرا أو تهجد لله سرا
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس متصدق سے محبت کرتا ہے جو اللہ کے لیے خفیہ طور پر صدقہ کرے یا خفیہ طور پر تہجد پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3349
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي ظَبِيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، أَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ، فَأَعْطَاهُ سِرًّا لا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ نَزَلُوا، فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، وَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ يَقْتُلُ أَوْ يُفْتَحُ لَهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور تین لوگوں کو ناپسند کرتا ہے؛ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، تو ایک وہ شخص ہے جو کچھ لوگوں کے پاس آئے اور ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگے، وہ ان کے ساتھ اپنی رشتے داری کی وجہ سے کچھ نہ مانگے، پھر ایک شخص ان کے پیچھے رہ جائے اور پوشیدہ طور پر اسے کچھ دے دے، اس عطیے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور جس نے اسے دیا ہے اس کے علاوہ اور کسی کو علم نہ ہو۔ دوسرے وہ لوگ جو رات بھر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ پڑاؤ کریں تو ان کے نزدیک نیند سب سے زیادہ پیاری ہو اور وہ سر رکھ کر سو جائیں، اور ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر میری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) خوشامد کرے اور میری آیات کی تلاوت کرے۔ اور ایک وہ شخص جو کسی مہم پر روانہ ہو، ان کا دشمنوں سے سامنا ہو تو وہ لوگ پسپا ہو جائیں، لیکن وہ شخص آگے بڑھے اور پھر یا قتل ہو جائے یا اسے فتح نصیب ہو۔ جہاں تک ان تین لوگوں کا تعلق ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو وہ یہ ہیں: ایک بوڑھا زانی، دوسرا غریب متکبر اور تیسرا ظالم خوشحال شخص۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3349]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2456، 2564، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3349، 3350، 4771، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1525، 2547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1614، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2567، 2568، 2568 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21751» «رقم طبعة با وزير 3338»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (2/ 32)، «المشكاة» (1922 / التحقيق الثاني)، وقد صحَّ عن أبي ذر بسياق آخره ليس فيه الأول، والثاني من الثلاثة الأُوَل، وقال في الثلاثة الذين يبغضهم الله: «والفخور المختال، والبخيل المنان، والبَّياع الحلاَّف». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں