صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
136. صدقة التطوع - ذكر محبة الله جل وعلا للمتصدق إذا تصدق لله سرا أو تهجد لله سرا
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس متصدق سے محبت کرتا ہے جو اللہ کے لیے خفیہ طور پر صدقہ کرے یا خفیہ طور پر تہجد پڑھے
حدیث نمبر: 3349
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي ظَبِيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، أَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ، فَأَعْطَاهُ سِرًّا لا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ نَزَلُوا، فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، وَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ يَقْتُلُ أَوْ يُفْتَحُ لَهُ، وَثَلاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگوں کواللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور تین لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہیںاللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، تو ایک وہ شخص ہے، جو کچھ لوگوں کے پاس آئے اور ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگے وہ ان کے ساتھ اپنی رشتے داری کی وجہ سے کچھ نہ مانگے پھر ایک شخص الٹے قدموں واپس جائے اور پوشیدہ طور پر اسے کچھ دیدے۔ اس عطیے کے بارے میںاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور جس نے اسے دیا ہے اس کے علاوہ اور کسی کو علم نہ ہو۔ دوسرے وہ لوگ جو رات بھر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ پڑاؤ کریں، تو ان کے نزدیک نیند سب سے زیادہ پیاری ہو اور وہ سر رکھ کر سو جائیں اور ایک شخص کھڑا ہو کر میری (یعنیاللہ تعالیٰ کی) خوشامد کرے میری آیات کی تلاوت کرے اور ایک وہ شخص جو کسی مہم پر روانہ ہو ان کا دشمنوں سے سامنا ہو، تو وہ لوگ پسپا ہو جائیں، لیکن وہ شخص آگے بڑھے اور پھر یا قتل ہو جائے یا اسے فتح نصیب ہو جہاں تک ان تین لوگوں کا تعلق ہے جنہیںاللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، ایک بوڑھا زانی، دوسرا غریب متکبر اور تیسرا ظالم خوشحال شخص۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الزكاة/حدیث: 3349]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3338»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (2/ 32)، «المشكاة» (1922 / التحقيق الثاني)، وقد صحَّ عن أبي ذر بسياق آخره ليس فيه الأول، والثاني من الثلاثة الأُوَل، وقال في الثلاثة الذين يبغضهم الله: «والفخور المختال، والبخيل المنان، والبَّياع الحلاَّف».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
الحصين بن جندب المذحجي ← أبو ذر الغفاري