صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
142. صدقة التطوع - ذكر ما يستحب للمرء أن يتصدق بثلث ما يستفضل في كل سنة من أملاكه
نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہر سال اپنے اموال سے باقی ماندہ مال کا تہائی حصہ صدقہ کرے
حدیث نمبر: 3355
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ إِذْ رَأَى سَحَابَةً فَسَمِعَ فِيهَا صَوْتًا: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلانٍ، فَجَاءَ ذَلِكَ السَّحَابُ، فَأَفْرَغَ مَا فِيهِ فِي حُرَّةٍ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ، فَإِذَا فِيهَا أَذْنَابُ شِرَاجٍ، وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشُّرَجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتِ الْمَاءَ فَسَقَتْهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يَحُولُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ فِي حَدِيقَةٍ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا اسْمُكَ؟ فَقَالَ: فُلانٌ، الاسْمُ الَّذِي سَمِعَ فِيَ السَّحَابَةِ، قَالَ: كَيْفَ تَسْأَلُنِي يَا عَبْدَ اللَّهِ عَنِ اسْمِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ فِيَ السَّحَابَةِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهَا يَقُولُ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلانٍ بِاسْمِكَ، فَأَخْبِرْنِي مَا تَصْنَعُ فِيهَا، قَالَ: أَمَا إِذَا قُلْتَ هَذَا، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا، فَأَصَّدَقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ، وَأُعِيدُ فِيهَا ثُلُثَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک شخص ایک ویران جگہ پر موجود تھا، اس نے ایک بادل میں آواز سنی (یعنی کسی فرشتے نے بادل کو حکم دیا): «اِسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ» ”تم فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو“، پھر وہ بادل وہاں سے ہٹا اور اس نے ایک پتھریلی زمین پر اپنا سارا پانی برسا دیا، وہ شخص کہتا ہے کہ جب میں اس جگہ پہنچا تو وہاں سے کچھ نالیاں نکل رہی تھیں، ان میں سے ایک نالی اس تمام پانی کو سمیٹے ہوئے تھی، میں اس پانی کے پیچھے ہولیا یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس پہنچا جو کھڑا ہوا بیلچے کے ذریعے اپنے باغ میں کام کر رہا تھا اور پانی لگا رہا تھا، میں نے اس سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: فلاں، اور یہ وہی نام تھا جو اس شخص نے بادل میں سنا تھا، اس (باغ والے) شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے! تم مجھ سے میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے بتایا: میں نے بادل میں جس سے یہ پانی آیا ہے، یہ سنا تھا کہ فرشتہ کہہ رہا تھا کہ تم فلاں بندے کے باغ کو سیراب کرو اور اس نے تمہارا نام لیا تھا، تو تم مجھے بتاؤ کہ تم اس باغ میں کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا: اب جب کہ تم نے یہ بات پوچھ ہی لی ہے تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اس کی جتنی بھی پیداوار ہوتی ہے، میں اس کے ایک تہائی حصے کو صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی حصہ اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہوں اور ایک تہائی حصہ دوبارہ اس (کی اصلاح) پر لگا دیتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3355]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2984، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3355، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7606، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8056، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2710، والبزار فى (مسنده) برقم: 9372» «رقم طبعة با وزير 3344»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1197). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين