صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
141. صدقة التطوع - ذكر خبر ثان يصرح بإباحة ما ذكرناه
نفلی صدقہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی اجازت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 3354
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الُوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقِيلَ لَهَا: أُوصِي، فَقَالَتْ: فَبِمَ أُوصِي، إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدِمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ، ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" ، فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَلَيْهَا، لِحَائِطٍ سَمَّاهُ.
سعید بن عمرو اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی جنگ میں شرکت کے لیے چلے گئے، مدینہ منورہ میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا، ان سے کہا گیا: آپ کوئی تلقین کیجیے۔ انہوں نے فرمایا: میں کس بات کی وصیت کروں؟ سارا مال تو سعد کا ہے، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے واپس آنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں، تو کیا انہیں فائدہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے، انہوں نے اس باغ کا نام بھی لیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3354]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 2812، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2500، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3354، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1535، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3652، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6444، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12756، والطبراني فى(الكبير) برقم: 5523» «رقم طبعة با وزير 3343»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق على «صحيح ابن خزيمة»» (2500).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح