🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

172. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر البيان بأن الأمر بترك المسألة بلفظ العموم الذي تقدم ذكرنا له إنما هو أمر ندب لا حتم
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات کا بیان کہ مانگنے سے منع کرنے کا حکم جو ہم نے پہلے عام الفاظ میں ذکر کیا، وہ استحباب کا ہے نہ کہ وجوب کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3386
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ الطَّائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ: قَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْأَلَنِي؟ فَقَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ، إِلا أَنْ يَسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ يَنْزِلَ بِهِ أَمْرٌ لا يَجِدُ مِنْهُ بَدًّا" .
زید بن عقبہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ حجاج نے ان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ مجھ سے کچھ مانگتے نہیں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ مانگنا ایک خراش ڈالنا ہے، جو آدمی اپنے چہرے پر ڈال لیتا ہے، تو جو شخص چاہے وہ اسے اپنے چہرے پر باقی رہنے دے اور جو شخص چاہے وہ ایسا نہ کرے، مگر یہ کہ جو شخص حاکمِ وقت (یا متعلقہ سرکاری اہل کار) سے مانگے یا وہ شخص جسے کوئی ایسی صورتِ حال پیش ہو کہ مانگنا اس کی مجبوری ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3386]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3386، 3397، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2598، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1639، والترمذي فى (جامعه) برقم: 681، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7971، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20423» «رقم طبعة با وزير 3377»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1447). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں