صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
173. باب المسألة والأخذ وما يتعلق به من المكافأة والثناء والشكر - ذكر الزجر عن فتح المرء على نفسه باب المسألة بعد أن أغناه الله جل وعلا عنها
سوال کرنے اور لینے دینے کے بیان کا باب اور اس سے متعلق بدلہ، تعریف اور شکر گزاری کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنے آپ پر مانگنے کا دروازہ کھولے جب اللہ جل وعلا نے اسے اس سے مستغنی کر دیا ہو
حدیث نمبر: 3387
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يُفْتَحُ إِنْسَانٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، لأَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ حَبْلا إِلَى جَبَلٍ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، وَيَأْكُلَ مِنْهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ مُعْطًى أَوْ مَمْنُوعًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مانگنے کا دروازہ جب بھی آدمی اپنے لیے کھولتا ہے، تواللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے آدمی ایک رسی لے کر اس کے ذریعے لکڑیوں کا گٹھا بنا کر اپنی پشت پر رکھ کر (اسے بازار میں جا کر فروخت کر کے) اس کو کھائے یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے اور اسے کچھ دیا جائے یا نہ دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 3387]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3378»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2543).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم