صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
3. باب فضل الصوم - ذكر إفراد الله جل وعلا للصائمين باب الريان من الجنة
روزے کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے صائموں کے لیے جنت کا باب الریان مختص کیا
حدیث نمبر: 3418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ الرَّاهِبُ، بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الأَشِيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، دُعِيَ مِنْ أَبُوَابِ الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ، وَلِلْجَنَّةِ أَبُوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ، دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الأَبُوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، هَلْ يُدْعَى مِنْهَا كُلُّ أَحَدٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص کسی بھی چیز کا جوڑا، اللہ کی راہ میں دیتا ہے تو جنت کے دروازوں سے یہ اعلان کیا جاتا ہے اے اللہ کے بندے یہ بھلائی ہے جنت کے کئی دروازے ہیں جو لوگ نمازی ہیں انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا جو جہاد کرنے والے ہیں انہیں جہاد والے دروازے سے بلایا جائے گا جو صدقہ کرنے والے ہیں انہیں صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا جو روزہ دار ہوں گے انہیں باب ”ریان“ سے بلایا جائے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے شخص کو کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ جس شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور مجھے امید ہے تم ان میں سے ایک ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّوْمِ/حدیث: 3418]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3409»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (308).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح