سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب الْجُنُبِ يَأْكُلُ
باب: جنبی کھانا کھائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں جب سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کر لیتے، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 222]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب غسل لازم ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونا چاہتے تو وضو کر لیتے، نماز والا وضو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 6 (305)، سنن النسائی/الطھارة 164 (256)، 165 (257)، 166 (258)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 99 (584)، (تحفة الأشراف: 17769)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 25 (286)، مسند احمد (6/85)، سنن الدارمی/الطھارة 73 (784) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (305)
حدیث نمبر: 223
حَدَّثَنَا، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ، غَسَلَ يَدَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، فَجَعَلَ قِصَّةَ الْأَكْلِ قَوْلَ عَائِشَةَ مَقْصُورًا، وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ: عَنْ عُرْوَةَ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن وہب نے بھی یونس سے روایت کیا ہے، اور کھانے کے تذکرہ کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے، نیز اسے صالح بن ابی الاخضر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے، مگر اس میں «عن عروة أو أبي سلمة» (شک کے ساتھ) ہے نیز اسے اوزاعی نے بھی یونس سے، یونس نے زہری سے، اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 223]
محمد بن صباح بزاز «حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري» کی سند سے اس کے ہم معنی مروی ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ: ”اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں ہوتے ہوئے کچھ کھانا چاہتے تو اپنے ہاتھ دھو لیتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن وہب نے بواسطہ یونس اس کو روایت کیا تو کھانے کے قصے کو ان کا قول بنا دیا یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے، جبکہ صالح بن ابی الاخضر بواسطہ زہری وہی بیان کرتا ہے جو ابن مبارک نے کہا (یعنی نیند اور کھانے دونوں کا ذکر کیا) مگر اس سند میں شک ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت لینے والا عروہ ہے یا ابی سلمہ، اور اوزاعی نے بواسطہ «يونس، عن الزهري، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » اسی طرح روایت کیا ہے جیسے کہ ابن مبارک نے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17769) (صحیح)»
وضاحت: سنن نسائی میں کھانے کے ساتھ پینے کا بھی ذکر ہے (سنن نسائی حدیث ۲۵۸) اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جنبی آدمی کو کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہییں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
زهري صرح بالسماع عند البغوي في شرح السنة (2/ 34)
زهري صرح بالسماع عند البغوي في شرح السنة (2/ 34)